رستاخیز

Imagem de capa

یہ جو لغزشوں کے ہیں سلسلے کوئی ان کا روزِ شکست ہو
مرے مہرباں کوئی دن تو ہو
کوئی ایسا دن
کوئی دن کہ جب ترا امتحاں مری خستگی کا بھرم رکھے
مری بے بسی نہ عیاں کرے
مری بے دلی کو نہ جوش دے
مری یاسِ خفتہ کی نیند میں بھی مخل نہ ہو
کوئی سرخوشی کوئی حوصلہ کوئی گوشِ نالہ نیوش دے
کوئی ایسا دن مرے مہرباں
تری حشر خیز عداوتوں سے مرا وجود بکھر چکا
تری منصفی کے اصول بھی تو ہیں خشمناک مرے لیے
ترا کون سا وہ سوال ہے کہ جو رشکِ زلفِ دوتا نہیں؟
یہ جو کشمکش سی ہے درمیاں یہ بھی فرقتوں سے جدا نہیں
یہ جو لغزشوں کے ہیں سلسلے انھیں انتصار میں ڈھال کر
کسی ایک روزِ حساب کو کبھی رشکِ صبحِ وصال کر


محمد ریحان قریشی